تمہید و پس منظر
الحمد للہ الذی بعث فی الامیین رسولا منہم یتلو علیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمة، والصلاة والسلام علی سیدنا محمد الذی اوتی الکتاب ومثلہ معہ، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین۔
دینِ اسلام کا سارا نظام جن دو بنیادی ستونوں پر استوار ہے، ان میں پہلا ستون کتابُ اللہ (قرآن مجید) اور دوسرا ستون حدیث و سنتِ رسول ﷺ ہے۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور حدیثِ نبوی ﷺ اس کلام کی زندہ، معتبر اور عملی تفسیر ہے۔ حدیث کے بغیر قرآن کے احکام کی تفہیم اور ان پر عمل درآمد ناممکن ہے۔
عصرِ حاضر میں بعض فتنہ پرور ذہنوں نے 'انکارِ حدیث' اور 'حجیتِ حدیث پر تشکیک' کا فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد درحقیقت دین کی عمارت کو اندر سے کھوکھلا کرنا ہے۔ اگر حدیث کو دین سے خارج کر دیا جائے تو نہ نماز کی رکعات کا پتہ چل سکتا ہے، نہ زکوٰۃ کے نصاب کا علم ہو سکتا ہے، نہ حج کے ارکان سمجھے جا سکتے ہیں اور نہ ہی شریعت کی عملی تعبیر باقی رہتی ہے۔ اس مقالے میں حدیثِ نبوی ﷺ کی شرعی حیثیت، اس کی حجیت اور اسلامی زندگی میں اس کے لازوال کردار پر سیر حاصل علمی و تحقیقی گفتگو پیش کی جا رہی ہے۔
بنیادی تعارف و مفہوم
لغوی اعتبار سے لفظ 'حدیث' کا معنی 'نئی چیز' یا 'بات چیت' کے ہیں؛ جبکہ اصطلاحِ شریعت اور محدثینِ کرام کے نزدیک حدیث کی تعریف یوں ہے: «مَا أُضِيفَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ فِعْلٍ، أَوْ تَقْرِيرٍ، أَوْ صِفَةٍ خَلْقِيَّةٍ أَوْ خُلُقِيَّةٍ» یعنی وہ تمام اقوال، افعال، تقریرات (وہ امور جو آپ ﷺ کے سامنے ہوئے اور آپ نے ان پر سکوت فرما کر اجازت دی) اور آپ ﷺ کے جسمانی و اخلاقی اوصاف جو رسول اکرم ﷺ کی طرف منسوب کیے جائیں، انہیں 'حدیث' کہا جاتا ہے۔
وحی کی دو اقسام ہیں: ایک 'وحیِ متلو' (جس کی تلاوت کی جاتی ہے یعنی قرآن مجید)، اور دوسری 'وحیِ غیر متلو' یا 'وحیِ خفی' (جس کی تلاوت نماز میں نہیں کی جاتی مگر اس کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے القا کیا جاتا ہے یعنی حدیث و سنت)۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾ (النجم: ۳-۴)۔ اس آیتِ قطعیہ نے ثابت کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ دینی امور میں جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، وہ اپنی مرضی یا خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ رب العزت کی وحی و رہنمائی کا پرتو ہوتا ہے۔
تدوینِ حدیث اور اسماء الرجال کا بے مثال نظام: مسلمانوں نے احادیثِ نبویہ کی جانچ پڑتال، راویوں کے حالات اور اسناد کی تحقیق کے لیے 'علم اسماء الرجال' اور 'علم الجرح والتعدیل' کا وہ عظیم الشان سائنسی نظام وضع کیا جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم یا مذہب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پانچ لاکھ سے زائد راویوں کے حالات، ان کا حافظہ، ان کا تقویٰ اور ان کی سچائی کو پرکھ کر صحیح روایات کو موضوع اور ضعیف باتوں سے الگ چھانٹ دیا گیا۔
تفصیلی علمی و فکری مباحث
قرآن مجید کے ساتھ حدیث شریف کا تشریعی تعلق
حدیثِ پاک قرآن مجید کے تابع یا اس سے الگ نہیں بلکہ اس کی تشریح کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ائمہ اصول کے نزدیک حدیث کا قرآن سے تعلق درج ذیل تین بنیادی پہلوؤں پر مشتمل ہے:
۱. قرآن کے مجمل احکامات کی تفصیل: قرآن مجید نے متعدد احکام اجمالاً دیے ہیں، مثلاً فرمایا «أَقِيمُوا الصَّلَاةَ» (نماز قائم کرو)، مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ فجر کی کتنی رکعات ہیں، ظہر اور عصر میں کتنے فرض ہیں، رکوع اور سجدے میں کیا پڑھا جائے گا۔ یہ ساری عملی تفصیلات صرف اور صرف رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور عملی سنت سے امت کو ملیں۔
۲. عام احکام کی تخصیص اور مطلق کی تقیید: قرآن مجید کے بعض احکام عام تھے، جن کی حدود اور شرائط حدیثِ مبارکہ نے متعین فرمائیں۔ مثلاً قرآن نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، مگر کس مالیت کی چوری پر اور کہاں سے ہاتھ کاٹا جائے گا، اس کی وضاحت حدیث نے فرمائی۔ اسی طرح مردار جانور حرام کیا گیا، مگر حدیث نے مچھلی اور ٹڈی کو اس حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا۔
۳. مستقل تشریعی احکامات: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو شارع کا مقام عطا فرمایا ہے (وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ)۔ بعض احکام ایسے ہیں جن کا صریح ذکر قرآن میں نہیں مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں واجب یا حرام قرار دیا، جیسے درندوں کا گوشت، گدھے کا گوشت اور پھوپھی یا خالہ کے ساتھ بھانجی یا بھتیجی کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت۔
فتنہ انکارِ حدیث کا علمی جائزہ اور بطلان
جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمیں صرف قرآن کافی ہے اور حدیث کی ضرورت نہیں، وہ درحقیقت خود قرآن کے صریح احکام کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن نے درجنوں مقامات پر واضح فرمایا کہ: ﴿مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾ (جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی)۔
اگر حدیث کی حفاظت پر شک کیا جائے تو پھر قرآن کے تواتر پر بھی سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہوگا، کیونکہ جس واسطے (صحابہ کرام اور تابعین کے تواتر) سے قرآن مجید امت تک پہنچا ہے، عین اسی معتبر واسطے سے احادیثِ نبویہ بھی امت تک منتقل ہوئی ہیں۔ لہٰذا حدیث کی حجیت کا انکار دراصل پورے دینِ اسلام کی جڑ کاٹ دینے کے مترادف ہے۔
قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات
قرآن مجید نے رسول اکرم ﷺ کی اطاعت، اتباع اور فرامین کی پابندی کو ایمان کی لازمی شرط قرار دیا ہے:
﴿ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ﴾
اور وہ (رسولِ معظم ﷺ) اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے، یہ تو وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔
﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾
اور جو کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جس چیز سے تمہیں روک دیں اس سے باز آ جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
﴿ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴾
اور ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر (قرآن) نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے ان احکام کو خوب کھول کر بیان فرما دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔
﴿ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴾
پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے تمام باہمی اختلافات میں آپ کو منصف و فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اسے دل و جان سے تسلیم کر لیں۔
احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات
رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعے حدیث شریف کی حجیت اور انکارِ حدیث کے فتنوں سے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا:
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ»
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! سن لو، بیشک مجھے کتاب (قرآن) عطا کی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز بھی (یعنی سنت و حدیث)۔ سن لو! قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا کہے گا: تم صرف اس قرآن کو لازم پکڑو، جو اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال جانو اور جو اس میں حرام پاؤ اسی کو حرام جانو (اور حدیث کی پروا نہ کرو، خبردار ایسا ہرگز نہ کرنا!)۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى»
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری پوری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے خود انکار کیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بھلا کون بدبخت انکار کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے درحقیقت جنت میں جانے سے انکار کیا۔
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: «...فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ»
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایا: ...پس تم میں سے جو یہاں حاضر ہے وہ اس شخص تک میری بات پہنچا دے جو یہاں غائب ہے، کیونکہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جائے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے اور سمجھنے والا ہوتا ہے۔
عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ
ایک سچے مسلمان کی روزمرہ زندگی میں حدیثِ پاک کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ درج ذیل نکات پر عمل لازم ہے:
مستند کتبِ حدیث کا مطالعہ
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ صحاحِ ستہ (بخاری، مسلم، ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) اور ریاض الصالحین جیسی معتبر کتب سے احادیث کا باقاعدہ مطالعہ کرے تاکہ دین کی اصل روح سے واقف ہو سکے۔
غیر تصدیق شدہ اور من گھڑت روایات سے اجتناب
سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر بغیر تحقیق کے کسی بات کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر کے پھیلانا سخت گناہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ ہمیشہ علمائے کرام سے تصدیق کریں۔
زندگی کے تمام معاملات میں سنت کو حتمی فیصلہ ماننا
عبادات، نکاح و طلاق، کاروبار اور لین دین میں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اپنی رائے کے بجائے حدیثِ رسول کے سامنے سر جھکا دیں۔
ائمۂ محدثین کی خدمات کا اعتراف اور احترام
جن محدثینِ کرام نے اپنی زندگیاں احادیث کی تحقیق و حفاظت میں کھپا دیں، ان کے علمی مقام کا دل و جان سے احترام کریں اور بد باطن مستشرقین کے شکوک کا شکار نہ ہوں۔
اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)
- حدیثِ نبوی ﷺ قرآن مجید کے بعد اسلامی شریعت کا دوسرا قطعی اور اساسی ماخذ ہے۔
- حدیثِ پاک کے بغیر قرآن مجید کی تفہیم اور عملی احکام پر عمل درآمد ناممکن ہے۔
- رسول اللہ ﷺ کی ہر دینی بات وحیِ خفی اور منشاِ الٰہی پر مبنی ہے۔
- مسلمانوں نے اسناد اور اسماء الرجال کا ایسا فقید المثال نظام قائم کیا جس سے حدیث کی حفاظت یقینی ہوئی۔
- حدیث کی حجیت کا انکار دراصل خود قرآن مجید کے درجنوں صریح احکام کی نافرمانی ہے۔
- نجات کا راستہ صرف اور صرف کتاب و سنت کو بیک وقت تھامنے میں ہے۔
خلاصۂ کلام
حدیثِ نبوی ﷺ دینِ اسلام کی وہ روحِ رواں ہے جس کے بغیر قرآن کے مقدس اور نورانی احکام کا پیکرِ عمل نظر نہیں آ سکتا۔ جو لوگ حدیث کو مشکوک قرار دے کر قرآن پر عمل کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ درحقیقت اسلام کے بنیادی ڈھانچے کو ہی منہدم کرنا چاہتے ہیں۔
ہم پر لازم ہے کہ ہم احادیثِ مبارکہ کا احترام کریں، صحیح احادیث کو اپنی روزمرہ زندگی میں داخل کریں، اور منکرینِ حدیث کے پھیلائے ہوئے وسوسوں کے سامنے کتاب و سنت کی ٹھوس علمی دلیل کے ساتھ سینہ سپر رہیں۔
حوالہ جات و مراجع (Sources & References)
- الرسالة — امام محمد بن ادریس الشافعی المطلبی۔
- فتح الباری شرح صحیح البخاری — حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر العسقلانی۔
- المنھاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج — امام محیی الدین یحییٰ بن شرف النووی۔
- جامع بیان العلم وفضلہ — امام ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر القرطبی۔
- تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی — علامہ جلال الدین السیوطی۔

