تمہید و پس منظر
الحمد للہ الذی جعل سنۃ نبیہ المصطفیٰ نورا للمسترشدین ومنھاجا للسالکین، والصلاة والسلام علی سید الاولین والآخرین، امام المتقین، رسول الہدیٰ، سیدنا ونبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔
اللہ رب العزت نے اپنے حبیبِ مکرم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت اور پوری انسانیت کے لیے کامل ترین نمونۂ حیات (اسوہ حسنہ) بنایا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کی روح ہے، اور اس محبت کا سب سے سچا اور ناگزیر ثبوت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر لمحے، ہر سانس اور ہر عمل کو رسول اکرم ﷺ کی سنت کے سانچے میں ڈھال دے۔
سنت محض چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ صبح بیدار ہونے سے لے کر رات کو سونے تک، خلوت سے لے کر جلوت تک، گھریلو زندگی سے لے کر میدانِ جنگ تک، اور کاروبار سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک انسان کی پوری زندگی کو منور کرنے کا نام سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ جب ایک مومن اپنی روزمرہ عادات کو سنت کے مطابق ادا کرتا ہے تو اس کی دنیاوی عادات بھی عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اس مقالے میں سنت کے مفہوم، اس کی عظمت اور روزمرہ زندگی میں اس کی برکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
بنیادی تعارف و مفہوم
لغت میں 'سنت' کا معنی 'طریقہ، راستہ اور عادت' کے ہیں، خواہ وہ طریقہ اچھا ہو یا برا۔ شریعت کی اصطلاح میں سنت سے مراد وہ مسنون طریقہ، حکم اور اسوہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے خود عمل فرمایا یا صحابہ کرام کو اس کی رغبت دلائی اور اس پر مواظبت فرمائی۔
فقہی اعتبار سے سنت کی بنیادی اقسام درج ذیل ہیں:
۱. سننِ ہدیٰ (سننِ مؤکدہ): وہ سنتیں جن پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت فرمائی اور بلا عذر کبھی ترک نہیں فرمایا، جیسے نمازِ فجر کی دو سنتیں، نمازِ ظہر کے چار سنن، اور اذان و اقامت۔
۲. سننِ زوائد (سننِ عادیہ): وہ مبارک معمولات جو رسول اللہ ﷺ کی بشری عادات اور روزمرہ اطوار سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے آپ ﷺ کا لباس پہننے کا طریقہ، کھانے پینے کے مسنون آداب، چلنے اور بیٹھنے کا انداز۔ ان معمولات پر محبت کی بنیاد پر عمل کرنا عظیم ثواب اور درجات کی بلندی کا باعث ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاں اتباعِ سنت کا عالم یہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ہر ہر حرکت اور پسندیدہ چیز کی دیوانہ وار نقل کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں اسی درخت کے نیچے سستانا پسند فرماتے جہاں نبی کریم ﷺ نے قیام فرمایا تھا، اور اسی موڑ پر اپنی اونٹنی کو موڑتے جہاں رسول اللہ ﷺ کی سواری مڑی تھی۔ یہ اندھی تقلید نہیں بلکہ عشقِ رسالت مآب ﷺ اور اتباع کی معراج تھی۔
تفصیلی علمی و فکری مباحث
روزمرہ معمولات میں مسنون زندگی کا حسن
اگر ہم اپنے چوبیس گھنٹوں کے معمولات کا جائزہ لیں تو سنتِ نبوی ﷺ نے ہر موقع کے لیے ہمیں خوبصورت آداب عطا فرمائے ہیں:
سونے اور جاگنے کے آداب: رات کو وضو کی حالت میں دائیں پہلو پر لیٹنا، سونے کی مسنون دعا پڑھنا، اور صبح بیدار ہوتے ہی اللہ کا شکر ادا کرنا اور کلمۂ شہادت پڑھنا۔
کھانے پینے کی مسنون عادات: کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، 'بسم اللہ' پڑھ کر دائیں ہاتھ سے کھانا، برتن کے اپنے سامنے والے حصے سے کھانا، ٹیک لگا کر نہ کھانا، کھانے کے بعد برتن اور انگلیاں صاف کرنا، اور پانی پیتے وقت بیٹھ کر تین سانسوں میں پینا۔ یہ ایسے آداب ہیں جن کی طبی اور سائنسی افادیت کو آج کی جدید طب بھی سو فیصد تسلیم کر چکی ہے۔
صفائی اور طہارت: مسواک کا کثرت سے استعمال، خوشبو لگانا، صاف ستھرا لباس زیب تن کرنا اور ناخن تراشنا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ» یعنی پاکیزگی نصف ایمان ہے۔
باہمی گفتگو اور میل جول: جب کسی سے ملیں تو چہرے پر مسکراہٹ ہو (مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے)، سلام میں پہل کرنا، مصافحہ کرنا، نرم اور شائستہ لہجے میں گفتگو کرنا اور غصے کے وقت خاموشی اختیار کرنا۔
سنت کی پیروی میں برکت اور بدعت سے اجتناب
سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان کا وقت، مال اور زندگی برکتوں سے معمور ہو جاتی ہے۔ جب انسان سنت کو چھوڑ کر اپنی طرف سے دین میں نئی نئی رسومات، بدعات اور خود ساختہ طریقے گھڑتا ہے تو وہ دین کی اصل سادگی اور خوبصورتی کو داغدار کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے خطبہ جمعہ میں بار بار اس حقیقت کو دہرایا: «فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» یعنی بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور بدترین کام دین میں نئے طریقے نکالنا ہیں اور ہر نئی بدعت گمراہی ہے۔ سنت پر تھوڑا عمل بھی بدعت کے انبار سے ہزار درجے بہتر ہے۔
قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات
قرآن مجید نے اتباعِ سنت کو محبتِ الٰہی کی بنیادی کسوٹی اور ہدایت کا واحد معیار قرار دیا ہے:
﴿ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ﴾
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی میں ایک بہترین اور کامل ترین نمونۂ عمل (اسوہ حسنہ) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ قیامت کی امید رکھتا ہو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا ہو۔
﴿ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴾
(اے حبیب ﷺ!) آپ فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
﴿ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ﴾
اور اگر تم ان (رسولِ معظم ﷺ) کی اطاعت کرو گے تو سیدھی راہ (ہدایت) پا جاؤ گے، اور رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر احکام پہنچا دینا ہی ہے۔
احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات
رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنت سے اعراض کرنے والوں کو سخت وعید سنائی اور سنت کو دانتوں سے پکڑنے کی تلقین فرمائی:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «...فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي»
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ...پس جس کسی نے میری سنت سے اعراض کیا اور منہ موڑا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً... فَقَالَ: «فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار اور دل لرز گئے... اور فرمایا: تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا واجب ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور داڑھوں سے مضبوط پکڑ لو، اور دین میں نئی باتوں (بدعات) سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ»
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پانی پیئے تو دائیں ہاتھ سے پیئے، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔
عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ
ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں سنتِ نبوی کو کیسے زندہ کر سکتے ہیں؟ درج ذیل مسنون طریقے اپنائیں:
صبح و شام کے مسنون اذکار کا اہتمام
گھر سے نکلتے وقت، سواری پر بیٹھتے وقت، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت، اور کھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی مسنون دعاؤں کو زبانی یاد کر کے روزانہ ورد کریں۔
گھروں میں مسنون اخلاق اور نرمی کا ماحول
نبی کریم ﷺ اپنے گھر والوں کے ساتھ انتہائی نرم مزاج، مددگار اور خوش طبع تھے۔ اپنے گھر میں خندہ پیشانی، بچوں پر شفقت اور گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹا کر سنت کو زندہ کریں۔
سنت کے مطابق طہارت اور لباس کی سادگی
تکبر، دکھاوے اور فیشن پرستی سے بچتے ہوئے سادگی، باوقار لباس، مسواک اور صفائی کو اپنی مستقل عادت بنائیں۔
مردہ سنتوں کو زندہ کرنے کا جذبہ
معاشرے میں جو سنتیں متروک ہو چکی ہیں (جیسے سلام کو عام کرنا، بیمار پرسی کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا) انہیں شعوری طور پر زندہ کریں تاکہ رسول اللہ ﷺ کی خصوصی شفاعت کے مستحق بن سکیں۔
اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)
- رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ انسانیت کی کامل ترین رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
- محبتِ الٰہی کا واحد راستہ اور ثبوت اتباعِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔
- روزمرہ عادات کو اگر سنت کے مطابق ادا کیا جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہیں۔
- سنت کی پیروی انسان کی زندگی میں سکون، نور اور برکت لاتی ہے۔
- دین میں نئی رسومات اور بدعات گھڑنے سے بچنا اور خالص مسنون طریقے کو تھامنا فرض ہے۔
خلاصۂ کلام
سنتِ نبوی ﷺ وہ پاکیزہ شاہراہ ہے جس پر چل کر انسان دنیا کی بے چینیوں سے نجات پا کر رب کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ دین اسلام محض زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی پیاری سنتوں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔
آئیے ہم سب اپنی زندگی کا محاسبہ کریں اور عہد کریں کہ اپنے کھانے پینے، سونے جاگنے، بولنے برتنے اور عبادت کرنے میں اسوہ نبوی ﷺ کو اولیت دیں گے۔ جب ہمارا ہر عمل سنت کے مطابق ہوگا تو ہماری زندگیاں دنیا میں بھی پرسکون ہوں گی اور آخرت میں حوضِ کوثر اور شفاعتِ مصطفیٰ ﷺ کی دولت نصیب ہوگی۔
حوالہ جات و مراجع (Sources & References)
- الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ — القاضی عیاض بن موسیٰ الیحصبی السبتي۔
- زاد المعاد فی هدی خیر العباد — علامہ شمس الدین ابو عبد اللہ ابن قیم الجوزیۃ۔
- الشمائل المحمدية — امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی۔
- سنن ابی داود — امام ابو داود سلیمان بن الاشعث السجستانی۔
- صحیح البخاری مع فتح الباری — امام البخاری وحافظ ابن حجر العسقلانی۔

