تمام مضامین پر واپس جائیں
عصر حاضر کے مسائلشائع شدہ (علمی نظرِ ثانی شدہ)مطالعہ: ۱۵ منٹ

جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا اسلامی نقطۂ نظر

مضمون نگار

مصنف: ابوبکر صدیق

آئی ٹی اینڈ سسٹم ایڈمنسٹریٹر، جامعہ شیرِ ربانی

جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
مصنف: ابوبکر صدیق
•
جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
•
شعبہ تصنیف و تحقیق
•
مستند علمی و فکری سلسلہ
جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا اسلامی نقطۂ نظر
عصر حاضر کے مسائل • جامعہ شیرِ ربانی
خلاصۂ مضمون و موضوعِ بحث:

انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کا مثبت و تعمیری استعمال، وقت کا ضیاع اور اخلاقی خطرات سے بچاؤ کی شرعی تدابیر۔

تمہید و پس منظر

الحمد للہ الذی علم الانسان بالقلم وعلمہ البیان، وسخر لہ ما فی السموات وما فی الارض من النعم والاتقان، والصلاة والسلام علی من کان کلامہ فصلا، وامانتہ عدلا، سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین، اما بعد!

عصرِ حاضر انسانی تاریخ کا وہ تیز رفتار اور انقلابی دور ہے جس میں سائنسی ایجادات، انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا کو ایک 'عالمی گاؤں' (Global Village) میں تبدیل کر دیا ہے۔ آج معلومات، تصاویر اور پیغامات سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتے ہیں۔ انسان کی زندگی کا شاید ہی کوئی گوشہ ایسا ہو جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے متاثر نہ ہوا ہو۔

دینِ اسلام کسی بھی سائنسی ترقی یا مفید ٹیکنالوجی کا مخالف نہیں ہے، بلکہ اسلام میں علم، تسخیرِ کائنات اور انسانی سہولت کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ فقہ اسلامی کا بنیادی قاعدہ ہے کہ: «الأَصْلُ فِي الأَشْيَاءِ الإِبَاحَةُ» یعنی دنیا کی ہر چیز میں اصل اباحت اور جواز ہے، جب تک کہ اس کے اندر کوئی صریح شرعی خرابی داخل نہ ہو۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری؛ بلکہ یہ ایک تلوار یا دو دھاری چاقو کی مانند ہے جس سے انسان کسی مظلوم کی جان بھی بچا سکتا ہے اور کسی کا گلا بھی کاٹ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس نعمت کو کس مقصد کے لیے اور کس اخلاقی ضابطے کے تحت استعمال کرتے ہیں؟ اس مقالے میں جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا کے مثبت و منفی پہلوؤں اور اسلامی ڈیجیٹل اخلاقیات کا سیر حاصل علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

بنیادی تعارف و مفہوم

ٹیکنالوجی کی شرعی حیثیت اور مقاصدِ شریعت: اسلام کسی ٹیکنالوجی کو صرف اس لیے رد نہیں کرتا کہ وہ غیر مسلموں نے ایجاد کی ہے، کیونکہ حکمت اور علم مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے غزوہ خندق میں فارسی صحابی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر خندق کھودی، اور محاصرہ طائف میں منجنیق کا استعمال فرمایا۔ پس جو ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے نافع ہو، وہ اسلام کی نظر میں پسندیدہ اور مباح ہے۔

سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری مواقع:

۱. دعوت و تبلیغ کا عالمی ذریعہ: قرآن و سنت کی تعلیمات، فتاویٰ، اور علمی بیانات کو بغیر کسی ویزے اور خرچے کے پوری دنیا کے کروڑوں انسانوں تک پہنچانا۔

۲. صلہ رحمی اور باہمی رابطہ: دور دراز مقیم والدین، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب سے باآسانی جڑے رہنا۔

۳. تعلیم و تربیت اور شعور کی بیداری: کتب خانوں، مقالہ جات اور علمی مباحث تک لمحوں میں رسائی۔

۴. فلاحی کام اور نیکی میں تعاون: مصیبت زدگان، یتیموں اور آفات سے متاثرین کے لیے چند گھنٹوں میں عالمی سطح پر امداد جمع کرنا۔

تفصیلی علمی و فکری مباحث

سوشل میڈیا کے مہلک تباہ کن نقصانات اور شرعی حدود

۱. جھوٹی خبروں اور افواہوں کی گرم بازاری: سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے کسی بھی پوسٹ کو شیئر اور فارورڈ کر دینا گناہِ کبیرہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلاتا پھرے۔ قرآن حکم دیتا ہے: ﴿إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ یعنی کسی بھی خبر کی مکمل چھان بین اور تحقیق کرو۔

۲. ڈیجیٹل غیبت، بہتان اور کردار کشی: فیس بک، واٹس ایپ یا ٹک ٹاک پر کسی کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا، نجی زندگی پر کیچڑ اچھالنا، اور کمنٹس میں گالیاں دینا عام غیبت سے زیادہ سنگین جرم ہے کیونکہ اس کی گواہی لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں اور اس کی معافی تلافی ناممکن ہو جاتی ہے۔

۳. فحاشی، عریانیت اور بے حیائی کا طوفان: انٹرنیٹ پر پورنوگرافی اور بے ہودہ ویڈیوز کا سیلاب نوجوانوں کی شرم و حیا اور روحانیت کو تباہ کر رہا ہے۔ قرآن کی کھلی وارننگ ہے: ﴿إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ یعنی کان، آنکھ اور دل، ہر ایک کا حساب دینا ہوگا۔

۴. وقت کی بربادی اور زندگی کا ضیاع: ریلز (Reels) اور شارٹس دیکھنے میں گھنٹوں برباد کرنا جس سے نمازیں قضا ہوتی ہیں اور فرائض چھوٹ جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے اس کی عمر اور جوانی کا حساب لیا جائے گا کہ اسے کہاں ضائع کیا۔

ڈیجیٹل دور کی اسلامی اخلاقیات کے رہنما اصول

۱. 'رقیب و عتید' کا احساس: یہ یاد رکھنا کہ جو کچھ ہم ٹائپ کرتے ہیں، پوسٹ کرتے ہیں یا لائک کرتے ہیں، فرشتہ اسے ہمارے نامۂ اعمال میں لکھ رہا ہے (مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ)۔ قیامت کے دن انسان کے ہاتھ اور موبائل کے بٹن گواہی دیں گے۔

۲. پرائیویسی اور تجسس کی ممانعت: کسی کے موبائل کے میسجز چھپ کر پڑھنا، سکرین شاٹس وائرل کرنا، یا کال ریکارڈنگ شیئر کرنا قطعی حرام اور امانت میں خیانت ہے۔ قرآن فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾۔

۳. گفتگو میں حیا اور وقار: سوشل میڈیا پر نامحرم مرد و زن کی بے تکلف گفتگو، دوستی، اور چیٹنگ زنا کی پہلی سیڑھی ہے۔ شائستگی، حیا اور دائرۂ شریعت میں رہنا فرض ہے۔

قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات

قرآن مجید نے معلومات کی تحقیق، اعضاء کے احتساب اور کلمات کی نگہبانی کا قانون دیا ہے:

سورة الإسراء • آیت نمبر: ۳۶قرآن مجید

﴿ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ﴾

ترجمۂ مبارک:

اور اس چیز کے پیچھے مت پڑو جس کا تمہیں علم نہیں، بیشک کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک سے (قیامت کے دن) بازپرس کی جائے گی۔

فکری و تفسیری نکتہ: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر جو کچھ ہم دیکھتے ہیں (آنکھ)، سنتے ہیں (کان) اور ارادہ کرتے ہیں (دل)، ان تمام حرکات کا ایک ایک پل رب کے حضور جوابدہ ہے۔
سورة الحجرات • آیت نمبر: ۶قرآن مجید

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴾

ترجمۂ مبارک:

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم پر حملہ کر بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔

فکری و تفسیری نکتہ: یہ آیت سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے وائرل ہونے والی خبروں، افواہوں اور پروپیگنڈے کے خلاف سب سے بڑا الہامی سدِ باب ہے۔

احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات

رسول اکرم ﷺ نے سنی سنائی باتوں کو پھیلانے اور وقت کے ضیاع سے سختی سے متنبہ فرمایا:

صحیح مسلم (مقدمہ)حدیث: 5
حکم: صحیح

عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»

اردو ترجمہ:

حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرتا پھرے۔

تشریح و مقصد: واٹس ایپ یا فیس بک پر بغیر تصدیق کے میسج یا وائس نوٹ کو آگے فارورڈ کر دینا شریعت کی نظر میں انسان کو جھوٹوں کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔
جامع الترمذیحدیث: 2417
حکم: حسن

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ؟ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ؟ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ؟ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ؟ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ؟»

اردو ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن بندۂ ابنِ آدم کے قدم اپنے رب کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ باتوں کا سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں فنا کیا؟ اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کس چیز میں گھلایا؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور جو علم حاصل کیا تھا اس پر کیا عمل کیا؟

تشریح و مقصد: اسکرینوں کے سامنے بیٹھ کر فضول ویڈیوز اور لغو کھیلوں میں جوانی اور وقت برباد کرنے والے اس سوال کا کیا جواب دیں گے؟

عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ

ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا کے محفوظ اور بااخلاق استعمال کے عملی اصول:

1

اسکرین ٹائم (Screen Time) کی حد بندی اور کنٹرول

اپنے موبائل میں وقت کی پابندی لگائیں۔ نمازوں کے اوقات، کھانے کی میز، اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھتے وقت فون کو مکمل سائیڈ پر رکھ دیں۔

2

کسی بھی پوسٹ کو شیئر کرنے سے پہلے تحقیق

مذہبی، سیاسی یا ذاتی معاملے کی کوئی بھی پوسٹ بغیر مستند ثبوت کے کبھی شیئر نہ کریں تاکہ گناہِ جاریہ سے بچا جا سکے۔

3

نامناسب اکاؤنٹس اور پیجز کا فوری بائیکاٹ اور ان فالو

فحاشی، لغویات اور نفرت پھیلانے والے پیجز کو فوراً ان فالو اور بلاک کریں اور صرف علمی و مثبت مواد دیکھنے کی عادت بنائیں۔

4

سوشل میڈیا کو تبلیغِ دین اور خیر کی اشاعت کا ذریعہ بنانا

اپنے سٹیٹس اور اکاؤنٹس پر قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور اخلاقی پیغامات شیئر کریں تاکہ آپ کا ڈیجیٹل اکاؤنٹ قیامت کے دن صدقۂ جاریہ بنے۔

اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)

  • جدید ٹیکنالوجی بذاتِ خود غیر جانبدار ہے، اس کا اچھا یا برا ہونا انسان کے استعمال اور نیت پر منحصر ہے۔
  • سوشل میڈیا تبلیغِ دین اور نیکی پھیلانے کا ایک طاقتور اور موثر ترین ذریعہ بن سکتا ہے۔
  • بغیر تحقیق کے جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانا اسلام میں صریح جھوٹ اور گناہِ کبیرہ ہے۔
  • ڈیجیٹل غیبت، بہتان اور کردار کشی عام برائیوں سے زیادہ ہولناک اور قیامت کا دیوالیہ پن ہے۔
  • قیامت کے دن عمر اور جوانی کے ضیاع کا حساب دینا ہوگا، اس لیے اسکرین ٹائم کو قابو میں رکھنا فرض ہے۔

خلاصۂ کلام

جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا موجودہ دور کا سب سے بڑا آزمائشی فتنہ بھی ہے اور سب سے بڑی نعمت بھی۔ اگر ہم اسے شریعت کے حدود اور خوفِ خدا کے تحت استعمال کریں تو یہ دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکتی ہے۔

ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی نئی نسل کو سوشل میڈیا کے اخلاقی اور فکری خطرات سے بچائیں، ڈیجیٹل تقویٰ اختیار کریں، اور اس نعمت کو امت کے عروج اور رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنائیں۔

حوالہ جات و مراجع (Sources & References)

  1. وسائل الاتصال الحدیثة وأحکامہا الفقهیة — مجمع الفقه الإسلامی الدولی۔
  2. الصمت وآداب اللسان — امام ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابی الدنیا۔
  3. فتاویٰ معاصرة — علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی رحمہ اللہ۔
  4. جدید فقہی مباحث — مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم۔
  5. أخلاقیات الإعلام فی الإسلام — ڈاکٹر محمد سید محمد۔
علمی نظرِ ثانی و ادارتی نوٹ: یہ مقالہ جامعہ شیرِ ربانی کے شعبہ تصنیف و تحقیق کے تحت جدید فتاویٰ اور فقہی مجامع کی روشنی میں متوازن انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شرعی احکام مصدقہ ہیں اور مقالہ جامعہ کی مجلسِ علم کے روبرو پیشِ نظر ہے۔
اسی زمرے سے مزید

متعلقہ علمی مضامین

مزید دیکھیں
نوجوان نسل کے مسائل اور اسلامی تعلیمات کی رہنمائی
عصر حاضر کے مسائل

نوجوان نسل کے مسائل اور اسلامی تعلیمات کی رہنمائی

جدید مادہ پرستی، فکری تشکیک اور بے راہ روی کے طوفان میں نوجوان نسل کے ایمان کی حفاظت اور اسلامی رہنمائی۔

ابوبکر صدیق
مضمون پڑھیں