تمام مضامین پر واپس جائیں
قرآن و تفسیرشائع شدہ (علمی نظرِ ثانی شدہ)مطالعہ: ۱۴ منٹ

قرآن مجید کا تعارف، اہمیت اور انسانی زندگی میں اس کا مقام

مضمون نگار

مصنف: ابوبکر صدیق

آئی ٹی اینڈ سسٹم ایڈمنسٹریٹر، جامعہ شیرِ ربانی

جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
مصنف: ابوبکر صدیق
•
جامعہ شیرِ ربانی مانانوالہ
•
شعبہ تصنیف و تحقیق
•
مستند علمی و فکری سلسلہ
قرآن مجید کا تعارف اور انسانی زندگی میں مقام
قرآن و تفسیر • جامعہ شیرِ ربانی
خلاصۂ مضمون و موضوعِ بحث:

قرآن مجید کلامِ الٰہی، انسانیت کے لیے آخری اور ابدی ہدایت، اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس کے مقام و عظمت کا علمی و فکری جائزہ۔

تمہید و پس منظر

الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، وبعد!

قرآن مجید ربِّ کائنات کا وہ مقدس، معجز اور لافانی کلام ہے جو تمام بنی نوع انسان کی ابدی فلاح، اخلاقی تطہیر اور روحانی بیداری کے لیے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قلبِ اطہر پر نازل کیا گیا۔ یہ کتابِ الٰہی نہ صرف دلوں کو حیاتِ نو بخشنے والا چشمۂ فیض ہے، بلکہ فکری اور عملی تاریکیوں میں صراطِ مستقیم کی روشن ترین مشعل ہے۔ جب دنیا کفر، شرک، اخلاقی پستی اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غرق تھی، قرآن مجید کے نزول نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا اور ایک بے بس اور پسماندہ قوم کو علم، حکمت اور تہذیب کے اوجِ ثریا پر فائز فرما دیا۔

قرآن مجید وہ واحد الہامی کتاب ہے جو چودہ صدیوں سے اپنے تمام الفاظ، اعراب، حروف اور معانی کے ساتھ تحریف و تغیر سے قطعی محفوظ ہے۔ یہ صرف ماضی کی تاریخ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے موجودہ اور آئندہ زندگی کا مکمل اور جامع منشورِ عمل ہے۔ اس مقالے میں قرآن مجید کے لغوی و اصطلاحی تعارف، اس کے خصائص و اعجاز اور انسانی زندگی میں اس کے اساسی مقام کا تفصیلی علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

بنیادی تعارف و مفہوم

لغوی اعتبار سے لفظ 'قرآن' کا مادہ 'ق-ر-أ' ہے، جس کے دو بنیادی معانی اہل لغت اور مفسرین نے بیان فرمائے ہیں: پہلا معنی 'پڑھنا' (قراءت) ہے، چونکہ یہ کتاب کثرت سے پڑھی جاتی ہے اور کائنات میں سب سے زیادہ تلاوت کی جانے والی کتاب ہے اس لیے اسے 'قرآن' کا نام دیا گیا۔ دوسرا معنی 'جمع کرنا' ہے، کیونکہ اس نے تمام سابقہ صحائف کے بنیادی اصولوں، احکام، اخلاق اور معارف کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔

اصطلاحی شریعت میں قرآن مجید کی تعریف جمہور ائمہ اصول و کلام کے نزدیک یوں ہے: «هُوَ كَلَامُ اللَّهِ الْمُنَزَّلُ عَلَى نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ ﷺ، الْمَكْتُوبُ فِي الْمَصَاحِفِ، الْمَنْقُولُ إِلَيْنَا نَقْلًا مُتَوَاتِرًا بِلَا شُبْهَةٍ، الْمُتَعَبَّدُ بِتِلَاوَتِهِ، الْمُعْجِزُ بِأَقْصَرِ سُورَةٍ مِنْهُ» یعنی قرآن اللہ کا وہ کلام ہے جو اس کے برگزیدہ رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا، جو مصاحف کے اوراق میں لکھا ہوا ہے، جو ہم تک بغیر کسی شک و شبہ کے قطعی تواتر کے ساتھ پہنچا ہے، جس کی تلاوت خود ایک مستقل عبادت ہے، اور جو اپنی چھوٹی سے چھوٹی سورت کے ذریعے بھی تمام فصحاء و بلغت کو عاجز کر دینے والا معجزہ ہے۔

نزولِ قرآن کا منہج بھی اپنی جگہ حکمتِ الٰہی کا عظیم شاہکار ہے۔ قرآن یکبارگی نازل کرنے کے بجائے ۲۳ سال کے طویل عرصے میں تدریجاً حالات، واقعات اور معاشرتی ضروریات کے مطابق نازل ہوا۔ اس تدریجی نزول نے صحابہ کرام کی فکری و اخلاقی تربیت کی اور اسلامی احکامات کو ان کے قلوب و اذہان میں پختہ فرما دیا۔

تفصیلی علمی و فکری مباحث

قرآن مجید کا اعجاز اور حفاظتِ الٰہی کا ابدی وعدہ

قرآن مجید کا سب سے بڑا امتیازی وصف اس کا اعجاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فصحائے عرب کو بار بار چیلنج فرمایا کہ اگر تم اس کلام کو کسی انسان کی تصنیف سمجھتے ہو تو اس جیسی ایک کتاب لا دکھاؤ، پھر فرمایا کہ دس سورتیں لاؤ، اور بالآخر فرمایا کہ اس جیسی صرف ایک چھوٹی سورت ہی بنا کر پیش کر دو۔ تاریخ شاہد ہے کہ عرب کے بڑے بڑے شعراء اور خطباء اس چیلنج کے سامنے مکمل بے بس اور لاجواب ہو گئے اور اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہو سکتا۔

سابقہ تمام آسمانی کتب کی حفاظت کی ذمہ داری ان کی متعلقہ اقوام پر ڈالی گئی تھی (بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّهِ)، جس کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ وہ کتب تحریف کا شکار ہو گئیں۔ لیکن قرآن مجید کے بارے میں اللہ رب العزت نے حفاظت کا فریضہ اپنے ذمہِ کرم پر لیا: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ (الحجر: ۹)۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود روئے زمین پر موجود قرآن مجید کا ایک نسخہ بھی دوسرے نسخے سے ایک نقطے یا شوشے کا اختلاف نہیں رکھتا۔

انسانی زندگی میں قرآن مجید کا ہمہ جہت مقام

انسانی زندگی میں قرآن مجید کی حیثیت محض چند مذہبی رسومات یا دعائیہ کلمات کی کتاب کی نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے وجود کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتا ہے: عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت اور سیاست۔

فکری و عقلی سطح پر: قرآن انسان کو توحیدِ خالص کی بصیرت عطا کرتا ہے، شرک کی باطل بنیادوں کو منہدم کرتا ہے، اور انسان کو زمین و آسمان کی وسعتوں میں تفکر و تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ اندھی تقلید کی مذمت کرتا ہے اور عقلِ سلیم کو جھنجھوڑ کر خالقِ حقیقی کی پہچان کرواتا ہے۔

روحانی و اخلاقی سطح پر: قرآن دلوں کے زنگ کو دور کرتا ہے اور انسانی روح کو طہارت و پاکیزگی بخشتا ہے۔ یہ تکبر، حسد، بغض اور حرص جیسی باطنی بیماریوں کا علاج تجویز کرتا ہے اور انسان کو عدل، احسان، شکر اور صبر کے زیور سے آراستہ کرتا ہے۔

معاشرتی و تمدنی سطح پر: قرآن ظلم و استحصال کی نفی کرتا ہے، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اور ایک ایسے منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جہاں کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر کوئی برتری حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے۔

قرآنی رہنمائی و تفسیری نکات

قرآن مجید نے متعدد آیاتِ بینات میں اپنی حقانیت، مقام اور انسانیت کے لیے اپنی ناگزیر رہنمائی کا اعلان فرمایا ہے:

سورة البقرة • آیت نمبر: ۲قرآن مجید

﴿ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴾

ترجمۂ مبارک:

یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، یہ پرہیزگاروں کے لیے سراسر ہدایت ہے۔

فکری و تفسیری نکتہ: اس آیتِ مبارکہ میں دو بنیادی حقیقتیں بیان ہوئیں: اول یہ کہ قرآن مجید شک و ریب سے مکمل پاک اور قطعی سچائی پر مبنی ہے؛ دوم یہ کہ اس کتابِ برحق سے کامل فائدہ وہی حاصل کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف اور حق کی طلب موجود ہو۔
سورة الإسراء • آیت نمبر: ۹قرآن مجید

﴿ إِنَّ هَـٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا ﴾

ترجمۂ مبارک:

بیشک یہ قرآن اس راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی، معتدل اور مضبوط ہے اور ان اہل ایمان کو جو نیک اعمال کرتے ہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

فکری و تفسیری نکتہ: امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قرآن تمام شعبہ ہائے زندگی میں سب سے افضل، عدل پر مبنی اور روشن ترین راستے کی نشان دہی کرتا ہے، چاہے وہ عقائد ہوں، اخلاق ہوں یا باہمی معاملات۔
سورة فصلت • آیت نمبر: ۴۲قرآن مجید

﴿ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ﴾

ترجمۂ مبارک:

باطل نہ اس کے آگے سے آ سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ اس ذات کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے جو بڑی حکمت والا اور تمام تعریفوں کے لائق ہے۔

فکری و تفسیری نکتہ: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مجید تمام فکری تحریفات، سائنسی و عقلی تضادات اور باطل نظریات سے ہمہ وقت بلند اور محفوظ کلامِ الٰہی ہے۔

احادیثِ نبویہ ﷺ کے ارشادات

رسول اکرم ﷺ نے قرآن مجید کی عظمت، اس کے پڑھنے پڑھانے کی فضیلت اور اس کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بارے میں نہایت واضح ارشادات فرمائے:

صحیح البخاریحدیث: 5027
حکم: صحیح

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»

اردو ترجمہ:

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہترین اور افضل ترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔

تشریح و مقصد: یہ حدیث مبارکہ واضح کرتی ہے کہ کائنات میں سب سے اعلیٰ علم کلامِ الٰہی کا علم ہے، اور معاشرے میں سب سے معزز اور باعثِ شرف افراد وہ ہیں جو خود بھی قرآن سے وابستہ رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا نور بانٹتے ہیں۔
صحیح مسلمحدیث: 804
حکم: صحیح

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ»

اردو ترجمہ:

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: قرآن پڑھا کرو، کیونکہ قیامت کے دن وہ اپنے ساتھیوں (تلاوت اور عمل کرنے والوں) کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔

تشریح و مقصد: قیامت کی ہولناکی اور تنہائی میں قرآن مجید اپنے صاحبِ حق کے لیے ربِ کریم کے حضور مغفرت اور درجات کی بلندی کی شفاعت فرمائے گا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
صحیح مسلمحدیث: 817
حکم: صحیح

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»

اردو ترجمہ:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس کتابِ عزیز کے ذریعے بہت سی قوموں کو عروج و سربلندی عطا فرماتا ہے اور دوسروں کو (اس سے منہ موڑنے کی پاداش میں) پستی میں گرا دیتا ہے۔

تشریح و مقصد: تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب تک امتِ مسلمہ نے قرآن مجید کو اپنا رہبر اور دستور بنائے رکھا، وہ دنیا کی قیادت کرتی رہی؛ اور جب اس سے دوری اختیار کی تو ذلت و ادبار کا شکار ہو گئی۔

عملی زندگی میں رہنمائی و نفاذ

قرآن مجید کے ساتھ ہمارا تعلق محض طاقوں میں سجانے یا قسمیں کھانے کا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے عملی زندگی میں لانے کے لیے درج ذیل امور ناگزیر ہیں:

1

روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ تلاوت اور ترتیل

ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے دن کا آغاز یا اختتام قرآن کریم کے کچھ حصے کی تلاوت سے کرے، تجوید و ترتیل کے ساتھ پڑھے اور الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر ادا کرے۔

2

ترجمہ و تفسیر کے ساتھ فہمِ قرآن کی کوشش

قرآن کا نزول سمجھنے کے لیے ہوا ہے۔ مستند علمائے کرام کے ترجمے اور معتبر تفاسیر کی مدد سے آیات کے معانی و احکامات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

3

احکامِ قرآنی کا اپنی ذات اور گھر پر نفاذ

نماز، حلال و حرام، دیانت، والدین کے حقوق، اور زبان کی حفاظت کے جو احکام قرآن میں دیے گئے ہیں، انہیں سب سے پہلے اپنے ذاتی کردار اور گھریلو ماحول میں نافذ کریں۔

4

قرآنی تعلیمات کی تبلیغ اور آئندہ نسلوں کی تربیت

اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم سے آراستہ کریں اور حکمت و نرمی کے ساتھ قرآنی اخلاقیات کو اپنے ماحول میں عام کریں۔

اہم حاصلِ مطالعہ (اہم نکات)

  • قرآن مجید اللہ کا غیر مخلوق اور معجز کلام ہے جو خاتم النبیین ﷺ پر نازل ہوا۔
  • قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ کائنات نے اپنے فضل سے لیا ہے، جس میں کسی تحریف کی گنجائش نہیں۔
  • قرآن صرف تلاوت کے ثواب تک محدود نہیں بلکہ عقیدہ، عمل اور معاشرت کا جامع منشور ہے۔
  • قوموں کا عروج و زوال قرآن مجید کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر وابستہ ہے۔
  • بہترین انسان وہ ہے جو قرآن خود سیکھے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دے۔
  • قیامت کے دن قرآن اپنے ماننے اور عمل کرنے والوں کے لیے شفیع اور نجات دہندہ ہوگا۔

خلاصۂ کلام

قرآن مجید انسانیت کے نام اللہ رب العزت کا آخری، مکمل اور ابدی پیغام ہے۔ یہ وہ کلامِ پاک ہے جس نے صدیوں کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو حیاتِ جاوداں بخشی، ظلم و جہالت کے ایوانوں کو لرزا دیا، اور عدل و رحمت پر مبنی انسانی تہذیب کی بنیاد رکھی۔

آج کے پرفتن، مادہ پرست اور بے چین دور میں اگر امتِ مسلمہ اور انسانیت اپنی گم گشتہ عظمت، اندرونی سکون اور اخلاقی استحکام کو دوبارہ پانا چاہتی ہے، تو اس کا واحد حل قرآن مجید کی طرف سچے دل سے رجوع کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی تلاوت کریں، اس کے معانی میں غوطہ زن ہوں، اور اس کے احکامات کو اپنی روزمرہ زندگی کا جزوِ لاینفک بنائیں۔

حوالہ جات و مراجع (Sources & References)

  1. تفسیر القرآن العظیم (تفسیر ابن کثیر) — حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی۔
  2. جامع البیان فی تأویل القرآن (تفسیر طبری) — امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری۔
  3. الإتقان فی علوم القرآن — علامہ جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی۔
  4. التبیان فی آداب حملة القرآن — امام ابو زکریا محیی الدین یحییٰ بن شرف النووی۔
  5. صحیح البخاری (الجامع المسند الصحیح المختصر) — امام محمد بن اسماعیل البخاری۔
  6. صحیح مسلم — امام ابو الحسین مسلم بن الحجاج القشیری النیسابوری۔
علمی نظرِ ثانی و ادارتی نوٹ: یہ مقالہ جامعہ شیرِ ربانی کے علمی و تحقیقی شعبہ کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے۔ شائقینِ علم کی سہولت اور مستند رہنمائی کے لیے تمام قرآنی آیات اور احادیث کے مصادر و متون کی تخریج کی جا چکی ہے۔ یہ تحریر حتمی اشاعت سے قبل جامعہ کے معزز شیوخ الحدیث و اساتذہ کرام کے زیرِ نظرِ ثانی ہے۔
اسی زمرے سے مزید

متعلقہ علمی مضامین

مزید دیکھیں
قرآن کریم کی تعلیمات اور ہماری عملی زندگی
قرآن و تفسیر

قرآن کریم کی تعلیمات اور ہماری عملی زندگی

روزمرہ کے معمولات، معاملات اور باہمی رشتوں میں قرآنی احکام و اخلاقیات کو عملی جامہ پہنانے کے رہنما اصول۔

ابوبکر صدیق
مضمون پڑھیں
قرآن مجید میں اخلاقی تربیت اور اصلاح معاشرہ
قرآن و تفسیر

قرآن مجید میں اخلاقی تربیت اور اصلاح معاشرہ

معاشرتی خرابیوں کے تدارک، اعلیٰ اخلاقی اوصاف کے احیاء اور پاکیزہ اسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے قرآنی منہج۔

ابوبکر صدیق
مضمون پڑھیں